تحریر: ہما میر
بشکریہ: ہفت روزہ زندگی(روزنامہ پاکستان)
تاریخ: 13تا 19جولائی 2025
معروف لکھاری دانشور اور صحافی پروفیسر وارث میر کی منتخب تحریروں پر مبنی “ضمیر کے اسیر” نامی مجموعہ مضامین محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک نظریاتی داستان ہے جو جنرل ضیاء الحق کے دور میں لکھی گئی۔ “ضمیر کے اسیر” پروفیسر وارث میر کی منتخب تحریروں کا مجموعہ ہے۔پروفیسر وارث میر سچ لکھنے اور لوگوں کی آواز بن کر بولنے کا مشن لے کر چلے اور تمام تر دباؤ کے باوجود کلمہئ حق کہنے سے باز نہیں آئے۔
“ضمیر کے اسیر” نامی کتاب میں پڑھنے والوں کو جگہ جگہ حریت ِفکر کے علمبرداروں سے ملنے کا موقع ملے گا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پروفیسر وارث میر خود بھی حریت ِفکر کے راہی تھے اور فکر اور سوچ پر پہرے کسی بھی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ کتاب کے مضامین قاری کو ایک ایسے صحافی اور استاد کی تصویر بھی دکھاتے ہیں جو نہ صرف وقت کے حکمرانوں سے سوال کرتا ہے، بلکہ معاشرتی بے حسی اور نظریاتی تضادات کو بھی پوری دلیری سے بے نقاب کرتا ہے۔ پروفیسر وارث میر کا ماننا تھا کہ آزادیئ اظہار ہر انسان کا نہ صرف بنیادی آئینی حق ہے بلکہ یہ انسانی شعور اور اجتماعی ارتقاء کی بنیاد بھی ہے۔ پروفیسر وارث میر کے نزدیک علم صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ سچ کی تلاش، ضمیر کی آواز اور انسان کے باطن کی آزادی کا نام ہے۔
پروفیسر وارث میر کا اسلوبِ بیاں رواں اور تحقیق دلیل سے بھرپور اور مزین ہے۔ وہ جذبات کو منطق سے جوڑ کر ایک ایسا علمی بیانیہ قائم کرتے ہیں، جو قاری کے ذہن اور دل دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں میں نہ صرف صداقت بلکہ بے باکی اور جرأت بھی نظر آتی ہے۔ “ضمیر کے اسیر” نامی کتاب ایک ایسے دور کا فکری منظرنامہ پیش کرتی ہے جب پاکستان فوجی آمریت کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ وارث میر کی تحریریں نہ صرف اس دور کا احاطہ کرتی ہیں بلکہ مستقبل کے حالات پر بھی ایک تنقیدی اور فکری روشنی ڈالتی ہیں۔
9 جولائی 1987ء کو صرف 48 برس کی عمر میں انتقال کر جانے والے پروفیسر وارث میر کو ان کی جمہوری اور صحافتی جدوجہد کے اعتراف میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے 1988ء میں انسانی حقوق کے خصوصی ایوارڈ (بعد از مرگ) سے نوازا۔ 2012ء میں حکومت ِپاکستان نے وارث میر کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں انہیں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ہلالِ امتیاز (بعد از مرگ) سے نوازا۔ 2012ء میں ہی بنگلہ دیش کی حکومت نے پروفیسر وارث میر کو فرینڈز آف بنگلہ دیش لبریشن وار نامی اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا۔2013ء میں حکومت ِپنجاب نے وارث میر کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے گزرنے والے نیوکیمپس انڈر پاس کو پروفیسر وارث میر انڈر پاس کا نام دیا جو کہ جامعہ پنجاب میں ان کی آخری آرامگاہ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسی برس وفاقی حکومت نے جامعہ پنجاب کے شعبہ صحافت میں پروفیسر وارث میر چیئر کے قیام کا اعلان بھی کیا تاکہ ان کی سوچ اور فکر کی ترویج کی جا سکے جو ان کی تحریروں کی صورت میں آج بھی زندہ ہے۔
