تحریر: فیصل میر
بشکریہ: گوگلی نیوز
تاریخ: 9جولائی 2025
9 جولائی 1987 کو معروف ترقی پسند دانشور اور لکھاری پروفیسر وارث میر کی وفات کے ساتھ ہی پاکستان میں ایک روشن خیال فکری عہد کا بھی خاتمہ ہو گیا تھا۔ وارث میر نے مارشل لا ادوار میں تمام تر مشکلات کے باوجود نہایت جرات مندی سے جمہوری آزادیوں کی جنگ لڑی، اور اپنی اس جنگ میں وہ جسم و جان سے گزر گئے۔
جنرل ضیاء الحق کے دور آمریت میں وارث میر کی تقریریں اور تحریریں مارشل لا سرکار کے سینے پر ہتھوڑے کی طرح برستی تھیں جن کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔ وارث میر محض ایک فرد نہیں، بلکہ ایک نظریے اور مزاحمت کی علامت تھے۔ انہوں نے اپنے افکار کے ذریعے فکری خار زاروں میں ایسی روشنی بھری جس نے کند ذہنوں کو آزادی کے ساتھ سوچنے کا حوصلہ فراہم کیا۔ ان کی تحریریں مناظر نہیں بلکہ مناجات تھیں؛ ان میں منطق اور دلیل تھی؛ ان کا لکھا ہوا ہر فقرہ گویا ضمیر کا نوشتہ ہوتا تھا جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔
وارث میر نے جس مشکل دور میں لکھا، وہ زمانہ محض آمرانہ نہیں، بلکہ فکری استبداد سے بھی لتھڑا ہوا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ذہنوں اور سوچوں پر پہرے بٹھا دیے گئے تھے۔ تب اختلافِ رائے کو فتنہ اور سوال کرنے کو بغاوت جیسا جرم قرار دے دیا گیا تھ۔ لیکن وارث میر نے نہ صرف آزادی کے ساتھ سوچنے اور بولنے کا بنیادی حق استعمال کیا بلکہ عوام کو بھی بتایا کہ حاکموں سے سوال کرنا کیوں ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے ضیا دور میں اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے حکمرانوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے بادشاہ کو بتایا کہ وہ ننگا ہے۔
پنجاب یونیورسٹی میں بطور شعبہ صحافت کے سربراہ وارث میر نے نہ صرف تدریس کا فریضہ سرانجام دیا بلکہ نوجوانوں کی فکری تربیت بھی کی۔ وہ اپنے طلبا کو محض نظریات کا رَٹّا نہیں لگواتے تھے، بلکہ انہیں سوچنے، تشکیک کرنے اور علمی سچائی کی طرف بڑھنے کا شعور دیتے تھے۔ انکے لیکچرز روایتی بھاشن نہیں بلکہ علمی اور فکری نشستیں ہوا کرتے تھے۔ وارث میر جس بھی موضوع پر لکھتے، دلیل اور تحقیق ان کا خاصہ ہوتی تھی۔ وہ جذباتیت اور رومانویت کی بجائے منطق اور استدلال سے بات کرتے تھے۔
پروفیسر وارث میر نے ضیا دور میں “کیا عورت آدھی ہے؟” کے عنوان سے ایک سلسلہ مضامین رقم کیا، وہ صحافت کے لیے ایک مشکل ترین زمانہ تھا۔ لیکن انہوں نے ضیاء الحق کے نام نہاد شریعت بل اور عورت کی گواہی کو آدھا قرار دینے کے فسطائی اقدامات کی ڈٹ کر مخالفت کی جسکا انہیں خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔ انہوں نے یہ سوال اٹھانے کی جرات کی کہ ایک عورت اگر آدھی ہے، تو کیا معاشرہ بھی آدھا نہیں ہو جاتا؟
ان کی تصانیف بالخصوص “فوج کی سیاست”، “حریتِ فکر کے مجاہد”، “خوشامدی سیاست اور صحافت” اور “ضمیر کے اسیر” میں آج بھی تازگی کا پہلو نظر آتا ہے کیونکہ انہوں نے جن سیاسی، فکری اور سماجی مسائل پر قلم اٹھایا وہ آج بھی جوں کے توں موجود ہیں، بلکہ اور بھی گھمبھیر ہو چکے ہیں۔
وارث میر اپنے باغیانہ نظریات اور افکار کی وجہ سے مسلسل ریاستی دباؤ کا شکار رہے، سچ بولنے کی پاداش میں ان کو جنرل ضیا کی اتحادی جماعت اسلامی کے غنڈوں نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، ان کے گھر پر حملے کیے گئے، ان کے بیٹے کو ان کے نظریات کا وارث ہونے کے جرم میں اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر اسے ایک جھوٹے مقدمہ قتل میں ملوث کر دیا گیا تاک وارث میر کو ذہنی اذیت دی جا سکے۔
لیکن ان تمام مصائب کے باوجود وارث میر نے مصلحت کو قلم کی روشنائی نہ بننے دیا اور جابر سلطان کے سامنے ببانگ دہل کلمہ حق کہتے رہے۔ وہ جانتے تھے کہ سچائی کی راہ آسان نہیں، مگر یہی واحد راستہ ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے۔ پروفیسر وارث میر کی تحریریں اس بات کی دلیل ہیں کی اصل صحافت ضمیر کی آواز بننے کا نام ہے۔ ان کے نزدیک ایک سچا لکھاری اور دانشور اگر سوال نہ اٹھائے اور عام آدمی کی آواز نہ بنے تو وہ عوام کی بجائے خواص یعنی اشرافیہ کا ایجنٹ بن جاتا ہے۔
9 جولائی 1987 کو صرف 48 برس کی عمر میں پراسرار حالات میں اچانک انتقال کر جانے والے وارث میر یہ سبق دے گئے کہ اگر کوئی دانشور، لکھاری اور صحافی سچ بولنے کا حوصلہ رکھتا ہے، اور ریاستی
جبر کو دلیل سے شکست دینا چاہتا ہے، تو وہ تنہا نہیں ہے بلکہ وہ روایت اس کے ساتھ ہے جسے وارث میر نے اپنے خونِ جگر سے سینچا۔ یہی وہ میراث ہے جسے نہ صرف سنبھالنا بلکہ آگے بڑھانا لازم ہے۔