تحریر: نورالعین
بشکریہ روزنامہ نوائے وقت
تاریخ: 9جولائی 2025
پروفیسر وارث میر۔۔70 اور 80 کی دہائی کے وہ ناقد ہیں،جنھوں نے اپنے قلم کے نشتر، لفظوں کی کاٹ اور فکری و علمی بصیرت سے سول اور فوجی اداروں میں ہلچل مچا دی تھی، آج بھی ان کی تحریروں کی حِدت سے حکمران طبقات کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ وارث میر ایک ایسے دانشور، محقق، مصنف اور صحافی تھے جنھوں نے ہمیشہ جمہوریت کا عَلم بلند رکھا اور آمریت کے لئے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے۔ ان کی ہرتحریر منجھے ہوئے سیاستدانوں کے لئے ہی نہیں نوآموز سیاستدانوں کے لئے بھی مشعل راہ ہے بشرطیکہ وہ ان سے استفادہ کرنا چاہیں۔
یہ پروفیسر وارث میر کی زیرک نگاہی اور معاملہ فہمی کا عجب کرشمہ تھا کہ وہ آنے والے وقت کو بھانپ لیتے تھے، وہ سیاستدان نہ ہونے کے باوجود سیاست کے اسرار و رموز سے واقف تھے۔ پاکستان کے فوجی حکمران ہوں یا جمہوری، وارث میر سے کسی کا ظاہر اور باطن اوجھل نہیں تھا، وہ جانتے تھے کہ کس نے عوامی خدمتگار ہونے کا ڈھونگ رچا رکھا ہے اور کس نے صادق اور امین ہونے کا ماسک چڑھایا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وارث میر اپنی تحریروں میں جا بجا اہلِ اقتدار کو وارننگ دیتے دکھائی دیتے ہیں، اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اپنی ’’لائن اور لینتھ‘‘ درست نہ رکھنے والے کھلاڑی کتنے ہی ’’طرم خان‘‘ کیوں نہ ہوں اکثر منہ کے بَل گرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ مغرب اور مشرق کے حکمرانوں میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ مشرقی حکمرانوں کی اولاد کے دلوں میں بھی اقتدار کی دیوی کا بت ہمیشہ کے لئے اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں سجا لینے کی خواہش شدت سے پیدا ہوتی ہے، جبکہ مغربی حکمرانوں کے لئے ان کی اولاد اور لواحقین اس لئے مسئلہ بنتے ہیں کہ ان کی نجی زندگی کی بے تکلفی اور آزادی، سیاسی اقتدار کی مجبوریوں اور ضابطوں کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔یہ پروفیسر وارث میر ہی کا وژن تھا جس نے دہائیوں پہلے بھانپ لیا کہ جس شخصیت پر بھی اقتدار کے ایوانوں کا کسی نہ کسی رْخ سے سایہ پڑا،اس کے عزیز و اقرباء کے خصائل اور عادات اس شخصیت کے لئے بھی باعث عذاب بن گئے۔
پاکستان میں آج بھی حکمران طبقات اقرباء پروری اور ذاتی مفادات کے ہیر پھیر سے باہر نہیں نکلے،اوراس کی بڑی وجہ ہمارے ہاں کے غیر جمہوری طور طریقے ہیں۔۔جب تک ہم اس بحث کو سمیٹ نہیں لیتے کہ یہاں سیاسی جماعتیں حق رائے دہی کی بنیاد پر نہیں، اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ کر مسند اقتدار تک پہنچتی ہیں؟ جب تک یہ مدعا کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچتا نہ تو یہاں جمہوریت قائم ہو گی اور نہ حکمران اپنی آئینی مدت پوری کر پائیں گے۔یہاں سیاسی حکمرانوں کو سوائے پیپلز پارٹی کے روحِ رواں آصف علی زرداری کے، ہمیشہ غیر فطری انداز سے چلتا کیا گیا ہے جبکہ فوجی حکمران اپنے تاحیات اقتدار کی منصوبہ بندی کرتے نظر آتے رہے ہیں۔
اب بھی وقت ہے کہ اہلِ اقتدار اپنی صفیں درست کر لیں ورنہ وقت کتنا بے رحم ہے؟ پروفیسر وارث میر کی تاریخی تحریر ’’کون کس طرح گیا‘‘ میں اس کی بڑی عمدہ تصویر کشی کی گئی ہے اور کچھ ایسے حکمرانوں کا کچا چٹھا کھولا گیا ہے جو انتہائی بے رحمی سے اپنے انجام تک پہنچائے گئے۔
وارث میر لکھتے ہیں، 1952ء میں جب برطانوی سفیر کے ہاتھوں مصر کے شاہ فاروق کی معزولی کا واقعہ پیش آیا تو مصری صحافیوں اور مؤرخوں کے مطابق محل کا گھیراؤ کرنے والے ٹینک مصر کے اپنے تھے، تخت سے دستبرداری کی دستاویز عربی زبان میں لکھی ہوئی تھی اور اسے پیش کرنے والا بھی مصری تھا۔ انھوں نے لکھا کہ مصر کے شاہ کی طرح خود پاکستان میں متعدد باکمال سیاستدانوں کو عبرتناک زوال کا سامنا کرنا پڑا۔ جیسے خواجہ ناظم الدین اور سہروردی تو محلاتی جوڑ توڑ کا شکار ہوئے لیکن سکندر مرزا، ایوب خان، یحییٰ خان اور بھٹو کو عوامی مخالفت کی وجہ سے کرسی چھوڑنا پڑی۔ ایک چودھری محمد علی کی مثال منفرد ہے کہ اراکین اسمبلی کی حمایت کے باوجود وہ مستعفی ہو گئے۔ ان کے علاوہ چندریگر بھی اپنے جماعتی اصول کی خاطر شرافت سے گئے۔گویا انھوں نے کئی برس قبل پاکستان کی حالیہ سیاسی اتھل پتھل کی تصویر کشی کر دی تھی کہ بعض اوقات ضرورت پڑنے پر سیاسی تطہیر اور احتساب کی کارروائیاں ناگزیر ہو جاتی ہیں خواہ اس میں اسٹیبلشمنٹ کو ہی مداخلت کیوں نہ کرنی پڑے۔
پروفیسر وارث میر کے مطابق اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی نے بھی فوج کے بل پر راج حاصل کیا تھا۔ مسولینی نے عوام سے جھوٹے وعدے کئے، پْر جوش تقریروں کا سلسلہ شروع کیا جن میں کوئی تعمیری بات نہیں ہوتی تھی۔ جس بات کا موقع ہوتا اسے خطیبانہ انداز میں عوام کے سامنے پیش کر کے داد وصول کرتا۔ دنیا ایک عرصہ تک نہیں سمجھ سکی کہ مسولینی کے فلسفہ سیاست کا مقصد ذاتی اقتدار کے حصول کے سوا کچھ نہیں چنانچہ رفتہ رفتہ عوام میں اس کے وقار اور مقبولیت کو شدید دھچکا لگا اور پھر ایک دن سیاہ و سفید کے مالک اسی مسولینی کی لاش میلان کے چوک میں لٹک رہی تھی۔ جرمنی کے ہٹلر کے کارناموں سے بھی تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔ تاہم ہٹلر کا انجام مسولینی سے ذرا مختلف طریقے سے ہوا۔ مسولینی اپنے ہم وطنوں کے ہاتھوں قتل ہوا جبکہ ہٹلر کو اتحادیوں کے ہاتھوں شکست نے خود کشی پر مجبور کیا۔
اپنے دورِ اقتدار میں ترکیہ کے وزیراعظم عدنان نے بھی اپنی کرسی کا خوب فائدہ اٹھایا تھا لیکن جب شکنجہ کسنے پر آئے تو کچھ بھی راہ میں حائل نہیں ہوتا۔ پروفیسر وارث میر کے مطابق عدنان مندریس پر الزامات تھے کہ اس نے آمرانہ ہتھکنڈوں سے ملک کو تباہی کے کنارے پر پہنچایا، آئین کے تقدس کو مجروع کیا، ایک اخبار کے دفتر کو برباد کرنے کے لئے حملوں کو منظم کیا اور غیر ملکوں سے ملے تحائف کو بھاری قیمت پر فروخت کر کے مالی فوائد حاصل کئے۔ پھانسی پانے سے قبل عدنان نے کہا تھا ’’ مجھے انقلاب کے روز ہی ختم کیوں نہ کر دیا گیا،اس طور تو مجھے روزانہ مرنا پڑتا ہے۔‘‘
انڈونیشیا کے سوئیکارنو کا انجام بھی کچھ مختلف نہیں تھا جو عوامی مقبولیت کے عروج پر تھے لیکن انتہا پسند حکمت عملی اور جذباتی طبیعت کی وجہ سے ملک میں امن وامان اور اقتصادی استحکام پیدا کرنے میں ناکام رہے۔ سوئیکارنو کا اقتدار بھی فوجی انقلاب کے ذریعے چھینا گیا۔ بنگلہ دیش کے مجیب الرحمٰن نے اقتدار کی ہوس میں مسلمانوں میں منافرت کے بیج بوئے اور اپنے ہی لوگوں کو ہندو سامراج کی آگ میں جھونک دیا اور پھر اپنی ہی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ اسی طرح عراق کے عبداللٰہ، افغانستان کے ظاہر شاہ، ایران کے ڈاکٹر مصدق، سوڈان کے جعفرالنمیری، برطانیہ کے میکملن، بھارت کی اندرا گاندھی اور امریکہ کے صدر نکسن کے علاوہ کئی دیگر ملکوں کے حکمرانوں کو غیر معمولی حالات میں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔
پروفیسر وارث میر لکھتے ہیں کہ لاطینی امریکہ اور افریقہ کے چھوٹے چھوٹے ملکوں میں بھی کرسی کی دوڑ لگی رہتی ہے لیکن اس کا مقصد احتساب یا عوام کی بھلائی نہیں بلکہ ذاتی اقتدار کی خواہش ہوتا ہے۔ اکثر ایشیائی ملکوں میں بھی اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کی باہمی کشمکش نے ملکی حالات اتنے خراب کر دیئے کہ فوجی جرنیلوں کو طاقت کے بل بوتے پر حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لینا پڑی۔ بعض ملکوں کی سیاسی زندگی میں یہ بھی ہوا کہ فوج نے ایک حکومت کو زبردستی مستعفی ہونے پر مجبور کیا اور ایک نئی حکومت بنائی لیکن وہ حکومت پہلی حکومت سے بھی زیادہ غیر مقبول ہو گئی۔
پروفیسر وارث میر نے طاقت کے نشے میں چور، تاریخ کے جن چند حکمرانوں کے عبرتناک انجام کی تصویر کشی کی ہے، کیا ہمارے بعض سیاسی اور فوجی حکمران بھی اس سے مماثلت نہیں رکھتے؟
